29 ستمبر 2011 - 20:30

سندھ میں بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب ناقص دواؤں کی وجہ سے شفاء کی بجائے متاثرین میں مزید بیماریاں پھیلنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

ابنا: غیر سرکاری ادارے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ (او پی پی) کے ڈائریکٹر انور راشد کا کہنا ہے کہ سانگھڑ اور بدین جیسے متاثرہ علاقوں سے شکایات سامنے آئی ہے کہ دو اور تین نمبر کی جعلی یا ناقص دوائیں تقسیم کی گئی ہیں اور غیر معیاری ادویات کی وجہ سے ان علاقوں میں ملیریا، جلدی امراض، ہیضہ اور گیسٹرو جیسے امراض پھیل رہے ہیں۔

ڈاکٹرز کی ایک تنظیم سوسائٹی فار او بی سی وائی کی رہنما اور آغا خان ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹر نگہت علی شاہ کا کہنا ہے کہ دواؤں کو محفوظ رکھنے کے لئے ضروری موسمی حالات یا پھر لائیٹ وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے ریفری جیریٹرز میں نہ رکھ سکنے کی وجہ سے بھی ایسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ قدرتی آفات اور سانحات میں لوگ جان بچا رہے ہوتے ہیں ایسے میں دواؤں کو محفوظ رکھنے کے مسلّمہ اصول نہیں اپنائے جاسکتے اور نہ ہی دواؤں پر تحریر ہدایات پر بالکل درست عمل کیا جاسکتا ہے۔ تو بہتر ہے کہ سادہ ادویہ دی جائیں اور حالت زیادہ خراب ہے تو مریضوں کو ہسپتال پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین یا ان کے اہل خانہ میں شعور کا فقدان اور تعلیم کی کمی سے بھی مشکلات جنم لیتی ہیں۔ یہ وہ آبادی ہے جو کچے سے باہر نہیں نکلتی، کبھی ہسپتال کا رخ نہیں کرتی، لوگوں کو تو یہ بھی یقین نہیں آتا کہ کوئی عورت ڈاکٹر ہوسکتی ہے ان کے لئے تو سڑک بھی عجوبہ ہوتی ہے۔ کسی کو جلدی مرض کی صورت میں دوا دی جائے کہ لگالو تو خدشہ ہوتا ہے کہ لگائی جانے والی دوا کہیں مریض پی ہی نہ جائے۔ تو بار بار تو مریض کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ پینا نہیں یہ لگانے کی دوا ہے، اس طرح کام کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی مریض آدھی بات سمجھتے ہیں آدھی نہیں۔ اس وجہ سے بھی بیماری پھیل سکتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر نگہت علی شاہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ شہری علاقوں میں حاصل دواؤں اور بارش سے متاثرہ دواؤں میں فرق تو ہوتا ہے۔

او پی پی کے ڈائریکٹر انور راشد کا کا کہنا ہے کہ بیماریوں کے پھیلنے کی ایک وجہ پینے کا صاف پانی نہ ملنا اور مچھروں اور حشرات کی بہتات بھی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ دوا سے بہتر ہے کہ معیاری بستر اور مچھر دانیاں فراہم کی جائیں تو بیماریوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انور راشد کہتے ہیں کہ صورتحال انتظامیہ کے علم میں ہے۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آفیسر (ڈی سی او) کے دفاتر کے باہر لوگ احتجاج کرتے ہیں مجمع لگاتے ہیں، مدد مانگتے ہیں۔

............

/169